سنن ابن ماجه
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ مِنَ الإِبِلِ باب: محصل زکاۃ والے سے کس قسم کا اونٹ لے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : " جَاءَنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ ، لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا ، فَأَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَخَذَهَا ، وَقَالَ : أَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي ، وَأَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي ، إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
´سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا ، اور اس کے میثاق ( عہد نامہ ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے ، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے ، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا ، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا ، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا ، تو عامل نے اس کو لے لیا ، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی ، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ (زکاۃ وصول کرنے والا) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق (عہد نامہ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1801]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض محققین نے صحیح اور بعض نے حسن قرار دیا ہے اور اس کے متابعات اور شواہد ذکر کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثة، مسند الإمام أحمد: 133، 132/31، وصحیح ابی داؤد (مفصل)
رقم: 1409، وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1801)
(2)
حضرت سوید بن غفلہ رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں اسلام قبول کرچکے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی زیارت نہیں کرسکے۔
مدنیہ منورہ اس وقت پہنچے جب صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی تدفین سے فارغ ہو چکے تھے، اس لیے ان کا شمار صحابہ کرام میں نہیں ہوتا، البتہ کبار تابعین میں شامل ہیں جنہیں بہت سے صحابہ کرام کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔
(3)
’’عامل ہمارے پاس آیا‘‘ یعنی ہمارے قبیلے کی زکاۃ وصول کرنے کے لیے آیا۔
حضرت سوید بن غفلہ رحمۃ اللہ علیہ جعفی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
(4)
حکم نامے سے مراد وہ تحریر تھی جو رسول اللہ ﷺ نے لکھوا کر عامل کو دی تھی تاکہ اس کے مطابق زکاۃ وصول کریں۔
حضرت سوید ؓ نے اس صحابی سے ملاقات کی اور نبی ﷺ کی تحریری ہدایات خود پڑھیں۔
(5)
زکاۃ میں درمیانہ درجے کا مال وصول کرنا چاہیے نہ بہترین جانور لیا جائے جس سے مالک کو نقصان ہو اور نہ بالکل نکما جانور لیا جائے جس سے کسی غریب کو فائدہ ہی نہ ہو۔
(6)
صحابہ کرام جب کسی عہدے پر فائز ہوتے تھے تو عدل و انصاف کا انتہائی خیال رکھتے تھے۔
الگ الگ ریوڑوں کو جمع کرنے اور اکٹھے ریوڑ کو الگ الگ کرنے کی وضاحت کے لیے اگلے باب میں حدیث: 1805 کا فائدہ نمبر: 8 ملاحظہ فرمائیں۔