حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ ؟ قَالَ : " يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ " ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابورزین ! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے ، اور اس کی مخلوق میں یہ ( چاند ) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/السنة 20 ( 4731 ) ، ( تحفة الأشراف : 11175 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/11 ، 12 ) ( حسن ) » ( وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں ، او ران کی متابعت موجود ہے ، ملاحظہ ہو : السنة لابن أبی عاصم ( 468 ) ، شیخ الاسلام ابن تیمیة وجھودہ فی الحدیث وعلومہ ( 38 ) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4731

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟ "، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 180]
اردو حاشہ:
گویا اکیلا ہی دیکھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی کثرت کے باوجود کسی کو اسے دیکھنے میں کوئی مشقت یا دشواری پیش نہیں آتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 180 سے ماخوذ ہے۔