حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ ؟ " فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزكاة / حدیث: 1795
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (1624) ترمذي (678), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 678 | سنن ابي داود: 1624 | بلوغ المرام: 493

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وقت سے پہلے زکاۃ نکالنے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1795]
اردو حاشہ:
فائدہ: پیشگی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کر دی جائے۔
وقت آنے پر حساب کر کے کمی بیشی پوری کر لی جائے۔
یہ جائز ہے۔
بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1795 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 493 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´پیشگی زکاۃ وصول کرنے کا بیان `
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 493]
لغوی تشریح:
«قَبُلَ اَّنَ تُخِلَّ» مقررہ وقت آنے سے پہلے۔ «حلول» سے ماخوذ ہے، باب «ضَرَبَ يَضْرِبُ» ہے، یعنی سائل نے پوچھا کہ کیا زکاۃ، سال گزرے اور وقت مقررہ آنے سے پہلے ادا کر سکتی ہے یا نہیں؟

فوائد و مسائل:
زکاۃ اگرچہ اپنے وقت پر، یعنی سال گزرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شدید ضرورت ہو تو اصحاب حیثیت لوگوں سے پیشگی زکاۃ بھی لی جا سکتی ہے، اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد دو سال ہے، یعنی دو سال کی پیشگی زکاۃ لی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں کیونکہ جس واقعے سے پیشگی زکاۃ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر دو سال کی زکاۃ پیشگی وصول فرما لی تھی۔ اس کی طرف اشارہ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب احادیث کی روایات سے ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بابت فرمایا: ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اس کی مثل اس کے ساتھ اور بھی۔ [صحيح البخاري، الزكاة، حديث: 1468، وصحيح مسلم، الزكاة، حديث: 983]
علمائے کرام نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ ان سے دو سال کی پیشگی زکاۃ وصول کر لی گئی ہے، دو سال کی زکاۃ ان سے طلب نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی پیشگی زکاۃ لینے کی متعدد روایات آتی ہیں جنہیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے، لیکن ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ ضعف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس کے مجموعی طرق سے کم از کم اس واقعہ کی اصلیت کا اثبات ہوتا ہے۔ «والله اعلم»
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباري: 4203]
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 493 سے ماخوذ ہے۔