سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ : " تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ " ، قُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو ؟ “ ، ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو ؟ “ ، ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر صورت نہ ہوپھر اس کا دیدار کیوں کر ہوگا۔
صورت کی حقیقت خود اللہ ہی کو معلوم ہے۔
اہلحدیث صفات باری کی تاویل نہیں کرتے۔
سلف صالح کا یہی طریقہ رہا ہے۔
مسلم کی روایت میں یوںہے۔
مسلمان پہلے اپنے پرورد گار کو نہ پہچان سکیں گے، کیونکہ وہ دوسری صورت میں جلوہ گر ہوگا اور جب وہ فرمائے گا کہ میں تمہارا پرورد گار ہوں تو مسلمان کہیں گے ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پھر پرورد گار اپنی پہلی صورت میں ظاہر ہوگا جس صورت میں مسلمان اس کو دیکھ چکے ہوں گے۔
اس وقت سب مسلمان سجدے میں گر پڑیں گے اور کہیں گے تو بیشک ہمارا پرورد گار ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھارے پاس کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے سے تم اپنے پروردگار کو پہچان لو؟ وہ عرض کریں گے۔
پنڈلی بطور نشانی ہے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن سجدہ ریز ہو جائے گا اور جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے۔
وہ سجدے کے لیے جھکیں گے تو ان کی کمر ایک تختے کی طرح بن جائے گی پھر جہنم پر پل رکھ دیا جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نجات یافتہ لوگوں سے فرمائے گا جاؤ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ جسے پہچانیں گے نکال لائیں گےراوی حدیث حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ اگر تمیں میری بات پر یقین نہیں تو اللہ تعالیٰ كافرمان پڑھ لو: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ (النساء: 40/4۔
وصحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7439)
امام بخاری ؒ نے اس روایت سے عنوان ثابت کیا ہے اور پیش کردہ روایت سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔