سنن ابن ماجه
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ باب: زکاۃ ادا کیا ہوا مال کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَلَحِقَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 34 ، قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا فَوَيْلٌ لَهُ ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طَهُورًا لِلْأَمْوَالِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : " مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي أُحُدٌ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ ، وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ` میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی ( دیہاتی ) ملا ، اور آیت کریمہ : «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» ( سورة التوبة : 34 ) ” جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں ، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے “ کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا ، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی ، تو اس کے لیے ہلاکت ہے ، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے ، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا ، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو ، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں ، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں ، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی (دیہاتی) ملا، اور آیت کریمہ: «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» (سورة التوبة: 34) ” جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے “ کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1787]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دین کے اہم مسائل میں سے ہے یہ حکم زکاۃ فرض ہونے سے پہلے بھی تھا اب بھی ہے لیکن پہلے اس کی کم از کم مقدار کا تعین نہیں کیا گیا تھا، اس کے بعد یہ مقدار بھی متعین کر دی گئی۔
(2)
فرض زکاۃ اور دیگر واجب اخراجات کے علاوہ نیکی کی راہ میں خرچ کرنا نفلی عبادت ہے۔
(3)
زکاۃ ادا کرنے سے باقی مال پاک ہو جاتا ہے ورنہ سارا مال ناپاک ہوتا ہے۔
(4)
جائز طریقے سے دولت مند ہونا اللہ کی طرف سے احسان اور نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنے کے لیے ضرورت مند افراد کی مدد کرتے رہنا چاہیے۔