حدیث نمبر: 1780
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ ، وَالصُّفْرَةَ ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا ، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں ، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحیض 10 ( 309 ) ، الاعتکاف 10 ( 2037 ) ، سنن ابی داود/الصوم 81 ( 2476 ) ، ( تحفة الأشراف : 17399 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/131 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 93 ( 906 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´استحاضہ والی عورت کا اعتکاف۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1780]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
استحاضے والی عورت ہر وہ عبادت انجام دے سکتی ہے جو پاک عورت انجام دیتی ہے چنانچہ وہ اعتکاف بھی کر سکتی ہے۔

(2)
ماہانہ عادت کے ایام کے علاوہ اگر سرخ خون بھی ظا ہر ہو تو وہ استحا ضہ ہی شمار ہو گا زرد خون کا بھی یہی حکم ہے۔

(3)
برتن میں بیٹھنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی چٹائیاں وغیرہ آلودہ نہ ہوں۔

(4)
اس حدیث سے ان علماء کے مو قف کی تا ئید ہوتی ہے جو عورتوں کے لئے بھی مسجد میں اعتکاف کرنا ضروری قرار دیتے ہیں کیونکہ اگر گھر میں اعتکاف جائز ہوتا تو نبی ﷺ اس خا تو ن کو گھر میں اعتکاف کرنے کا حکم دے دیتے تاکہ انھیں برتن نہ رکھنا پڑتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1780 سے ماخوذ ہے۔