حدیث نمبر: 1775
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةُ حَصِيرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا ، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا ، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا ، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : ( 1766 ) ، ( تحفة الأشراف : 4419 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد کے خیمہ میں اعتکاف کرنے کا بیان۔`
ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1775]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اعتکاف کے لئے جگہ خیمے کے انداز میں بنائی جا سکتی ہے خصو صاً جب اعتکاف مسجد کے صحن میں کیا جائے اور دھوپ وغیرہ کے بچاؤ کے لئے سائے کی ضرورت ہو۔

(2)
اعتکا ف کے دوران میں لوگو ں سے ضروری بات کی جا سکتی ہے۔

(3)
غیر مسلم ممالک کا بنا ہوا کپڑا یا دوسری چیز استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں کو ئی ایسی بات نہ ہو جو ہماری شریعت میں ممنوع ہو مثلاً ایسا مردانہ لبا س جو ریشم کا بنا ہوا ہو استعمال کرنا جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1775 سے ماخوذ ہے۔