سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلاَ يَصُومُ إِلاَّ بِإِذْنِهِمْ باب: مہمان میزبان کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَزَلَ الرَّجُلُ بِقَوْمٍ ، فَلَا يَصُومُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی آدمی کسی قوم کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 789 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 789]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 789]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی ابو بکر المدینی جنہوں نے ہشام سے روایت کی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ابو بکر مدنی سے جنھوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے زیادہ قوی ہیں، اُن کا ضعف ان کے مقابلہ میں ہلکا ہے۔
نوٹ:
(سند میں ایوب بن واقد متروک الحدیث راوی ہے)
1؎:
یعنی ابو بکر المدینی جنہوں نے ہشام سے روایت کی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ابو بکر مدنی سے جنھوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے زیادہ قوی ہیں، اُن کا ضعف ان کے مقابلہ میں ہلکا ہے۔
نوٹ:
(سند میں ایوب بن واقد متروک الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 789 سے ماخوذ ہے۔