حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (718), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصوم 23 ( 718 ) ، ( تحفة الأشراف : 8423 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں محمد بن سیرین کا ذکر وہم ہے ، سنن ترمذی میں صرف ”محمد“ کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے ، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں ، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ہے ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح ابن خزیمہ 2056 ، وکامل ابن عدی 1؍365 ، اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں ، حافظ ابن حجر کہتے ہیں : «صدوق سئی الحفظ جداً» ، صدوق ہیں ، اور حافظہ بہت برا ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 718

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے روزوں کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1757]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اما م ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی تو ہے، رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے طو ر پر صحیح سند سے مروی نہیں (جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في الکفارۃ، حدیث: 718)
۔

(2)
امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر جو عنوان لکھا ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کی رائے میں اگر روزوں کی قضا نہ دینے میں مرنے والے کی کوتاہی کو دخل نہ بلکہ اسے قضا ادا کرنے کا مو قع ہی نہ ملا ہو تو اس کی طرف سے کھانا کھلانے کی ضرورت نہیں اس مسئلے کی بابت مزید دیکھیے: حدیث 1759 کے فوائد و مسا ئل۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1757 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 718 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 718]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں، نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 718 سے ماخوذ ہے۔