حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 273 ( 542 ) ، ( تحفة الأشراف : 1954 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/252 ، 360 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 217 ( 1641 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 542 | بلوغ المرام: 388

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عید الاضحی کے دن نما ز سے پہلے کھانا نہ کھانا مسنون ہے۔

(2)
عوام اس اجتناب کو روزہ کہہ دیتے ہیں یہ غلط ہے عید کے دن روزہ ر کھنا جائز ہے، نہ نماز عید سے پہلے کھانا کھانے سے اجتنا ب کو روزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1756 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 542 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 542]
اردو حاشہ:
1؎:
بر صغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کرعید گاہ جاتے ہیں، اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں، اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ ’’عیدالفطر‘‘ اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، جیسے عیدالاضحی میں ’’گوشت‘‘، اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 542 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 388 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز عیدین کا بیان`
سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کے لئے کچھ نہ کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے تھے البتہ عید قربان (عید الاضحی) کے دن جب تک نماز ادا نہ فرما لیتے کچھ تناول نہ فرماتے تھے۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 388»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.»
تشریح: 1. یہ حدیث بتاتی ہے کہ عید الفطر کے روز نماز سے پہلے کچھ کھانا اور عید قربان کے روز بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے‘ البتہ کھجوروں‘ چھواروں کو مسنون سمجھ کر کھائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 388 سے ماخوذ ہے۔