حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ " ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا ، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے بلال ! دوپہر کا کھانا حاضر ہے ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں ، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے ، تم کو معلوم ہے ، اے بلال ! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں ، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1944 ، ومصباح الزجاجة : 629 ) ( موضوع ) » ( محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1332 )