سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابٌ في ثَوَابِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا باب: روزہ افطار کرانے والے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1747
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا : ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا ، اور تمہارا کھانا ، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزہ افطار کرانے والے کا ثواب۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1747]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1747]
اردو حاشہ:
فائدہ: مہمان کو چا ہیے کہ کھا نا کھا نے کے بعد میزبا ن کو دعا دے اور دعا دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکو رہ بالا مسنون الفا ظ کہے۔
فائدہ: مہمان کو چا ہیے کہ کھا نا کھا نے کے بعد میزبا ن کو دعا دے اور دعا دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکو رہ بالا مسنون الفا ظ کہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1747 سے ماخوذ ہے۔