حدیث نمبر: 1747
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا : ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا ، اور تمہارا کھانا ، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله أفطر رسول الله صلى الله عليه وسلم , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مصعب بن ثابت الأسدي ضعيف, و روي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 498۔499) عن أنس ابن مالك قال: … فأتي إلي باب سعد بن عبادة … فدخل فجلس فقرب إليه سعد طعامًا فأصاب النبي ﷺ فلما أراد النبي صلي اللّٰه عليه و آله وسلم أن ينصرف قال: ((أكل طعامكم الأبرار و أفطر عندكم الصائمون و صلت عليكم الملائكة)) و سنده حسن،انظر سنن أبي داود (بتحقيقي: 3854) و ھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5287 ، ومصباح الزجاجة : 627 ) ( صحیح ) » ( سند میں مصعب بن ثابت ضعیف ہیں ، بالخصوص عبد اللہ بن زبیر سے روایت میں ، لیکن قول رسول صحیح ہے ، فعل رسول ضعیف ہے ، نیز ملاحظہ ہو : آداب الزفاف : 85-86 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزہ افطار کرانے والے کا ثواب۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1747]
اردو حاشہ:
فائدہ: مہمان کو چا ہیے کہ کھا نا کھا نے کے بعد میزبا ن کو دعا دے اور دعا دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکو رہ بالا مسنون الفا ظ کہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1747 سے ماخوذ ہے۔