حدیث نمبر: 1736
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ ، لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ : رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، زَادَ فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ يَفُوتَهُ عَاشُورَاءُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا “ ۔ ابوعلی کہتے ہیں : اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے ، اس میں اتنا زیادہ ہے : اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصوم 20 ( 1134 ) ، ( تحفة الأشراف : 5809 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/224 ، 236 ، 345 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1134

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´یوم عاشوراء کا روزہ۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔‏‏‏‏ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1736]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نو محرم کو روزہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنے کا بھی اراده فرمایا تاکہ اہل کتاب سے فرق بھی ہو جائے اور افضل دن کے روزے کا ثواب مل جائے۔

(2)
راوی نے بیان فرمایا کہ آ پﷺ نے نو تاریخ کا روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا تو وہ اس لئے تھا کہ دس تا ریخ کا روزہ چھوٹ نہ جا ئے تو یہ حکم بھی ممکن ہے لیکن پہلی وجہ زیادہ قرین قیاس ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1736 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1134 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں کا روزہ رکھوں گا۔‘‘ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عاشورہ کا روزہ تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2667]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کے روزے کی خواہش فرمائی تھی۔
اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہہ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کا روزہ رکھتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1134 سے ماخوذ ہے۔