سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : صِيَامِ الْعَشْرِ باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ممکن ہے ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع نہ ہو ئی ہو کہ نبی ﷺ اس دن روزے سے ہیں تا ہم ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرفہ کے دن کا رزہ رکھتی تھیں اس سے معلو م ہو تا ہے کہ انھیں دوسرے صحا بہ یا صحا بیا ت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس روزے کی فضیلت کا علم ہو گیا تھا
(2)
اس حدیث کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ ان ایام میں مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ دنو ں کا روزہ رکھ لیتے تھے واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
ممکن ہے ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع نہ ہو ئی ہو کہ نبی ﷺ اس دن روزے سے ہیں تا ہم ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرفہ کے دن کا رزہ رکھتی تھیں اس سے معلو م ہو تا ہے کہ انھیں دوسرے صحا بہ یا صحا بیا ت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس روزے کی فضیلت کا علم ہو گیا تھا
(2)
اس حدیث کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ ان ایام میں مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ دنو ں کا روزہ رکھ لیتے تھے واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1729 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2439 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عشرہ ذی الحجہ میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2439]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2439]
فوائد ومسائل:
عشرہ ذی الحجہ سے مراد ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں۔
ان دنوں میں روزہ رکھنا بہت ہی مستحب ہے، جیسے کہ اوپر کی احادیث میں آیا ہے اور حدیث:2437 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مذکور ہوا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان کا مفہوم یوں ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض عوارض کی بنا پر روزے نہیں رکھ سکے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاق نہیں ہوا کہ انہیں روزے سے دیکھیں۔
عشرہ ذی الحجہ سے مراد ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں۔
ان دنوں میں روزہ رکھنا بہت ہی مستحب ہے، جیسے کہ اوپر کی احادیث میں آیا ہے اور حدیث:2437 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مذکور ہوا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان کا مفہوم یوں ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض عوارض کی بنا پر روزے نہیں رکھ سکے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاق نہیں ہوا کہ انہیں روزے سے دیکھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2439 سے ماخوذ ہے۔