سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : صِيَامِ الْعَشْرِ باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
حدیث نمبر: 1728
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ ، وَإِنَّ صِيَامَ يَوْمٍ فِيهَا لَيَعْدِلُ صِيَامَ سَنَةٍ ، وَلَيْلَةٍ فِيهَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے ، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے ، اور ان میں ایک رات شب قدر ( قدر کی رات ) کے برابر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 758 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 758]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 758]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں نہاس بن قہم ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں نہاس بن قہم ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 758 سے ماخوذ ہے۔