حدیث نمبر: 1726
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمُصَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو ، سوائے فرض روزہ کے ، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے “ ( لیکن روزہ نہ رکھے ) ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے آدمی سنیچر کو روزے کے لیے مخصوص کر دے کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، رہی وہ روایتیں جن میں سنیچر کے دن صوم رکھنے کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اسے روزے کے لیے خاص کر لے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5191 ، ومصباح الزجاجة : 620 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم 51 ( 2421 ) ، سنن الترمذی/الصوم 43 ( 744 ) ، مسند احمد ( 6/368 ) ، سنن الدارمی/الصوم 40 ( 1790 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے (لیکن روزہ نہ رکھے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1726]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے بھی اکیلے ہفتے کے دن کے روزہ ے کی مما نعت ثابت ہوئی۔
فرض روزے رکھتے ہو ئے یہ دن بھی آ تا ہے لکین وہ اکیلا ہفتے کے دن کا روزہ نہیں ہوتا اسی طرح قضا روزے رکھتے ہوئے یہ اہتما م کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہفتے کے دن نہ رکھا جائے اسی طرح اگر اتفا قا اگر ہفتے کے دن کا روزہ آ پڑے مثلاً کسی کا ایک روزہ رہ گیا تھا اس کی قضا میں اس نے روزہ رکھا اتفاقا ہفتے کا دن تھا روزہ رکھنے والے کا ارادہ ہفتے کو اہمیت دینے کا نہیں تھا یا داؤد ؑ والا روزہ رکھتے ہوئے جمعرات کو روزہ رکھا تو اب ہفتے کو پھر سوموار کو روزہ رکھنا ہو گا تو ایسی صورتوں میں منع نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1726 سے ماخوذ ہے۔