سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابٌ في صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن کا روزہ۔
حدیث نمبر: 1725
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ ( جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی ، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے ) ۔
وضاحت:
۱؎: اوپر کی روایتوں میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی صراحت سے ممانعت آئی ہے، اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن اکثر روزہ سے رہتے تھے، اس میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم ﷺ کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے، یا یہ کہا جائے کہ ایام بیض میں جمعہ آ پڑے تو آپ جمعہ کو بھی روزہ رکھ لیتے تھے، یا آپ جمعہ کو ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر روزہ رکھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ کے دن کا روزہ۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ (جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1725]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ (جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1725]
اردو حاشہ:
فائده:
یہ حدیث گزشتہ احادیث کے مخالف نہیں ہے کیو نکہ رسول اللہ ﷺ نے جب جمعے کا روزہ رکھا تو اس کے سا تھ جمعرات یا ہفتے کے دن کا روزہ بھی رکھا ہو گا۔
فائده:
یہ حدیث گزشتہ احادیث کے مخالف نہیں ہے کیو نکہ رسول اللہ ﷺ نے جب جمعے کا روزہ رکھا تو اس کے سا تھ جمعرات یا ہفتے کے دن کا روزہ بھی رکھا ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1725 سے ماخوذ ہے۔