حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333), الزھري مدلس وعنعن, وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصوم 71 ( 2454 ) ، سنن الترمذی/الصوم 33 ( 730 ) ، سنن النسائی/الصیام 39 ( 2333 ، ) ، ( تحفة الأشراف : 15802 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصیام2 ( 5 ) ، مسند احمد ( 6/278 ) ، سنن الدارمی/الصوم 10 ( 1740 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2335

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت موقوفاً صحیح ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 30، 25/4، رقم: 914)
 بنا بریں رات سے نیت کرنے کا مطلب شام سے کرنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چاہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جائے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے
(2)
یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھا ہوا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔

(3)
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1700 سے ماخوذ ہے۔