حدیث نمبر: 1695
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ النَّهَارُ ، إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی ، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصوم 10 ( 2154 ) ، ( تحفة الأشراف : 3325 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/396 ، 400 ) ( حسن الإسناد ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سحری دیر سے کھانے کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1695]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 اس سے مراد رات کے بالکل آ خری حصے میں سحری کھا نا ہے جب کہ آد می کو شبہ ہو سکتا ہے کہ صبح صادق طلو ع ہو چکی ہے کیو نکہ یہ کھا نا نما ز فجر سے بہرحا ل پہلے ہی کھا یا گیا ہو گا اور نبی اکرم ﷺ فجر کی نما ز اندھیرے میں ادا کر تے تھے صبح صا دق قریب ہو جا نے کو دن کے نکلنے سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے مراد تا خیر میں مبالغہ ہے ورنہ روزے دار کے لئے صبح صادق کے بعد کھا نا پینا بالاتفاق منع ہے جس کی دلیل قرآ ن مجید کی یہ آ یت مبا رکہ ہے ﴿وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ ٱلْأَبْيَضُ مِنَ ٱلْخَيْطِ ٱلْأَسْوَدِ مِنَ ٱلْفَجْرِ﴾ ’’اور تم کھا تے پیتے رہو یہا ں تک صبح کا سفید دھا گا را ت کے سیا ہ دھا گے سے ظا ہر ہو جا ئے۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1695 سے ماخوذ ہے۔