سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ باب: غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1690
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا ، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کو روزہ اور عبادت کا نور حاصل نہیں ہوتا، اور نہ اس میں لذت و برکت ہوتی ہے بلکہ صوم و صلاۃ ان پر ایک بوجھ اور تکلیف ہے، دن میں بھوکا رہنا اور رات کو جاگنا بس اسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے، اگر آداب و شروط کے مطابق عبادت کریں تو وہ قبول ہو گی اور اس سے نور و لذت کی نعمت بھی حاصل ہو گی، اور اس وقت ان کو معلوم ہو جائے گا کہ صوم و صلاۃ کا مقصد صرف بھوکا رہنا اور جاگنا نہیں ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہو گئے ہیں جو صوم و صلاۃ کو ظاہری طور سے ادا کر لیتے ہیں، اور خضوع و خشوع مطلق حاصل نہیں کرتے،اگرچہ عوام کے لئے یہ بھی کافی ہے، اور امید ہے کہ اللہ اپنی مہربانی سے قبول کر لے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1690]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1690]
اردو حاشہ:
فوئد و مسائل: (1)
اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔
(2)
عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔
اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص، اللہ کی محبت، اللہ کا خوف، اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔
(3)
اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔
کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔
کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جا سکتی ہے۔
کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازماً ہوجائے گا۔
(4)
عبادات میں ان کے آداب کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
فوئد و مسائل: (1)
اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔
(2)
عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔
اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص، اللہ کی محبت، اللہ کا خوف، اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔
(3)
اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔
کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔
کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جا سکتی ہے۔
کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازماً ہوجائے گا۔
(4)
عبادات میں ان کے آداب کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1690 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 289 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت روزہ میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر قابو ہو، وہ لے سکتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر قابو نہ کر سکتا ہو، وہ بوسہ نہیں لے سکتا، کہ کہیں وہ دوران روزہ گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، جس سے اس پر کفارہ لازم آئے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت روزہ میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر قابو ہو، وہ لے سکتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر قابو نہ کر سکتا ہو، وہ بوسہ نہیں لے سکتا، کہ کہیں وہ دوران روزہ گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، جس سے اس پر کفارہ لازم آئے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 289 سے ماخوذ ہے۔