سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1688]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1688]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بوڑھے اور جوان کا یہ فرق سنن بيہقی میں رسول اللہﷺ سے بھی مروی ہے۔ (دیکھئے: 232/4)
۔
(2)
عام طور پر بوڑھے کو اپنے آپ پر جو قابو ہوتا ہے جوان آدمی کو نہیں ہوتا۔
اس لئے مسئلہ اس طرح بیان فرمایا گیا۔
اگر کوئی شخص زیادہ عمر کا ہونے کے باوجود جوانوں کی طرح قوت اور جوش رکھتا ہے۔
تو اسے جوان کیطرح پرہیز کرنا چاہیے۔
اور اگر کوئی جوان اسطرح کا جوش نہیں رکھتا بلکہ اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے۔
تو اس کے لئے بوڑھے کیطرح اجازت ہوگی۔
فوائد و مسائل:
(1)
بوڑھے اور جوان کا یہ فرق سنن بيہقی میں رسول اللہﷺ سے بھی مروی ہے۔ (دیکھئے: 232/4)
۔
(2)
عام طور پر بوڑھے کو اپنے آپ پر جو قابو ہوتا ہے جوان آدمی کو نہیں ہوتا۔
اس لئے مسئلہ اس طرح بیان فرمایا گیا۔
اگر کوئی شخص زیادہ عمر کا ہونے کے باوجود جوانوں کی طرح قوت اور جوش رکھتا ہے۔
تو اسے جوان کیطرح پرہیز کرنا چاہیے۔
اور اگر کوئی جوان اسطرح کا جوش نہیں رکھتا بلکہ اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے۔
تو اس کے لئے بوڑھے کیطرح اجازت ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1688 سے ماخوذ ہے۔