حدیث نمبر: 1678
حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن عبد الجبار الزبيدي: ضعيف،كا ن جرير يكذبه (تقريب: 2343), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16906 ، ومصباح الزجاجة : 608 ) ( ضعیف ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 377 | بلوغ المرام: 543

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1678]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنے کی بابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاعمل سنن ابوداؤد میں مروی ہے۔
کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔
اسے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے حسن موقوف قرار دیا ہے۔
اس طرح سنن ابوداؤد ہی میں ہے۔
کہ جناب اعمش کہتے ہیں (یہ صغار تابعین میں سے ہیں۔)
کہ میں نے اپنے اہل علم دوستوں (فقہاء محدثین)
میں سے کسی کو نہیں پایا کہ روزے دار کے لئے سرمے کو مکروہ سمجھتے ہوں۔
اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اجازت دیتے تھےکہ روزے دار ایلوا کو بطور سرمہ استعمال کرے۔
دیکھئے: (سنن ابی داؤدں الصیامں باب فی الکحل عند لنوم للصائمں حدیث: 2379، 2378)
ان دلائل کی روشنی میں روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سے روزے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لہٰذا روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ اور دوائی وغیرہ ڈالنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1678 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 543 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(روزے کے متعلق احادیث)`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگایا۔ اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 543]
فوائد و مسائل 543:
➊ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔
➋ روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنے کی بابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل سنن ابی داؤد میں مروی ہے کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن موقوف قرار دیا ہے، اسی طرح سنن ابی داؤد ہی میں ہے، جناب اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اہلِ علم دوستوں (فقہاء و محدثین) میں سے کسی کو نہیں پایا کہ روزے دار کے لیے سرمے کو مکروہ سمجھتے ہوں۔ اور ابراھیم نخعی اجازت دیتے تھے کہ روزے دار ایلوا کو بطورِ سرمہ استعمال کرے۔ ہمارے فاضل محقق نے اسے سندًا حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: [سنن ابي داؤد، الصيام، حديث: 2379، 2378]
➌ ان دلائل کی روشنی میں روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سے روزے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، لہٰذا روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ اور دوائی وغیرہ ڈالنا جائز ہے۔ تاہم پہتر اور افضل یہ ہے کہ سرمہ رات کو استعمال کرے جیسا کہ شیخ ابنِ باز اور شیخ ابنِ عثیمین کا فتوٰی بھی یہی ہے۔

درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 543 سے ماخوذ ہے۔