سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1665]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1665]
اردو حاشہ:
فائدہ: مطلب یہ ہے کہ سمجھا جائے کہ چاہے کتنی بھی مشقت ہوسفر میں روزہ رکھنا ہے۔
یہ سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا کوئی نیکی نہیں ہے کیونکہ دین میں آسانی ہے مشقت نہیں ہے۔
اس لئے شریعت کی عطا کردہ آسانی کو قبول کرنے کی بجائے مشقت ہی کواختیار کرنا نیکی نہیں ہے۔
یہ حکم اسی وقت ہے جب شدید مشقت ہو اور روزہ پورا کرنے کی صورت میں بیماری کاخوف ہو۔
فائدہ: مطلب یہ ہے کہ سمجھا جائے کہ چاہے کتنی بھی مشقت ہوسفر میں روزہ رکھنا ہے۔
یہ سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا کوئی نیکی نہیں ہے کیونکہ دین میں آسانی ہے مشقت نہیں ہے۔
اس لئے شریعت کی عطا کردہ آسانی کو قبول کرنے کی بجائے مشقت ہی کواختیار کرنا نیکی نہیں ہے۔
یہ حکم اسی وقت ہے جب شدید مشقت ہو اور روزہ پورا کرنے کی صورت میں بیماری کاخوف ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1665 سے ماخوذ ہے۔