سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَمَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا ، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سفر میں روزہ رکھنے کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1663]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1663]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی برداشت کرسکتا ہو تو سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت ہی ہو۔
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی برداشت کرسکتا ہو تو سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت ہی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1663 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1945 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1945. حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ گرمی اس قدر سخت تھی کہ اس کی شدت سے آدمی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ اس وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص بھی روزے سے نہ تھا۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ روزے دار تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1945]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ اگر شروع سفر رمضان میں کوئی مسافر روزہ بھی رکھ لے اور آگے چل کر اس کو تکلیف معلوم ہو تو وہ بلاتردد روزہ ترک کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1945 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1945 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1945. حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ گرمی اس قدر سخت تھی کہ اس کی شدت سے آدمی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ اس وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص بھی روزے سے نہ تھا۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ روزے دار تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1945]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں جائز ہیں کیونکہ صحیح مسلم کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سفر ماہ رمضان میں ہوا تھا۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ماہ رمضان کے موقع پر سخت گرمی میں سفر کے لیے نکلے تھے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2630(1122) (2)
واضح رہے کہ مذکورہ سفر غزوۂ بدر اور فتح مکہ کے علاوہ تھا کیونکہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ جنگ موتہ میں شہید ہوئے اور فتح مکہ اس کے بعد ہوا۔
اور غزوۂ بدر اس لیے نہیں ہو سکتا کہ راوئ حدیث حضرت ابو درداء ؓ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوران سفر میں روزہ رکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور اسے کسی قسم کی مشقت نہ ہو تو اسے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 233/4) (4)
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر کوئی انسان رمضان کا روزہ رکھ کر سفر کا آغاز کرے، آگے جا کر اسے تکلیف محسوس ہو تو بلاتردد روزہ افطار کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
(1)
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں جائز ہیں کیونکہ صحیح مسلم کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سفر ماہ رمضان میں ہوا تھا۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ماہ رمضان کے موقع پر سخت گرمی میں سفر کے لیے نکلے تھے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2630(1122) (2)
واضح رہے کہ مذکورہ سفر غزوۂ بدر اور فتح مکہ کے علاوہ تھا کیونکہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ جنگ موتہ میں شہید ہوئے اور فتح مکہ اس کے بعد ہوا۔
اور غزوۂ بدر اس لیے نہیں ہو سکتا کہ راوئ حدیث حضرت ابو درداء ؓ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوران سفر میں روزہ رکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور اسے کسی قسم کی مشقت نہ ہو تو اسے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 233/4) (4)
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر کوئی انسان رمضان کا روزہ رکھ کر سفر کا آغاز کرے، آگے جا کر اسے تکلیف محسوس ہو تو بلاتردد روزہ افطار کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1945 سے ماخوذ ہے۔