سنن ابن ماجه
كتاب الصيام— کتاب: صیام کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ باب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو ، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہو جانا چاہئے، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہو جائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1660]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1660]
اردو حاشہ:
فائدہ: عید اجتماعی عبادت ہے۔
اس لئے اگر کسی شخص کو چاند ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو تب بھی اسے عام مسلمانوں کے ساتھ ہی عید منانى چاہیے اسی لئے چاند کے ثبوت کےلئے کثیر تعداد کی شرط نہیں رکھی گئی بلکہ دو قابل اعتماد افراد کی گواہی پراعتماد کیا گیا ہے۔
فائدہ: عید اجتماعی عبادت ہے۔
اس لئے اگر کسی شخص کو چاند ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو تب بھی اسے عام مسلمانوں کے ساتھ ہی عید منانى چاہیے اسی لئے چاند کے ثبوت کےلئے کثیر تعداد کی شرط نہیں رکھی گئی بلکہ دو قابل اعتماد افراد کی گواہی پراعتماد کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1660 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 697 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´روزہ کا دن وہی ہے جب سب روزہ رکھیں، عیدالفطر کا دن وہی ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 697]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 697]
اردو حاشہ:
1؎:
امام ترمذی کا اس حدیث پر عنوان لگانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے اور سارے کے سارے لوگ غور و خوض کرنے کے بعد ایک فیصلہ کر لیں تو اسی کے حساب سے رمضان اور عید میں کیا جائے۔
1؎:
امام ترمذی کا اس حدیث پر عنوان لگانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے اور سارے کے سارے لوگ غور و خوض کرنے کے بعد ایک فیصلہ کر لیں تو اسی کے حساب سے رمضان اور عید میں کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 697 سے ماخوذ ہے۔