حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن اياس الجريري اختلط, و لا يعرف سماع القاسم بن مالك منه قبل اختلاطه, و حديث أبي داود (الأصل: 2322 وسنده حسن) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14622 ، ومصباح الزجاجة : 602 ) ( حسن صحیح ) ( ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : 2011 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1658]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
روزے فرض ہونے کے بعد رسول اللہﷺ کی زندگی میں نو بار ماہ رمضان آیا کیونکہ روزے کی فرضیت 2 ہجری میں ہوئی اور 11 ھجری کا رمضان آنے سے پہلے ماہ ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ رحلت فرماگئے۔
اس دوران میں کم از کم پانچ باررمضان کے انتیس روزے ہوئے۔

(2)
حدیث 1656اور 1657 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تیس کا ہونا ضروری نہیں۔
کبھی انتیس کا ہوتا ہے کبھی تیس دن کا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1658 سے ماخوذ ہے۔