حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ ، وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النکاح 80 ( 5187 ) ، ( تحفة الأشراف : 7156 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دل میں نبی اکرمﷺ کے احترام اور محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ بات کرتے ہوئے بھی احتیاط کرتے تھے۔

(2)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر قوی تھا کہ آپﷺ کی مجلس ہی میں نہیں بلکہ گھروں میں تنہائی میں بھی اپنے اقوال وافعال میں اسی طرح محتاط رہتے تھے۔

(3)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ نبی کریمﷺ براہ راست ہماری باتیں سن رہے ہیں۔
اور ہمارے اعمال دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ عقیدہ تھا کہ آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے سے ہمارے اعمال کی اطلاع ہوسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1632 سے ماخوذ ہے۔