سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ مَرِيضًا باب: بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا ، وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ ، وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا ، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا ، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1615]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1615]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن جریج ہے۔
اس سے غلطی ہوئی ہے یا ابراہیم بن محمد بن ابو عطاء نے غلطی کی ہے۔
اس لئے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
اصل میں یہ فضیلت جہاد کے موقع پر سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کےلئے ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
ایک دن رات سرحد پرٹھرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
اور اگر وہ (محاذ پر ٹھرنے کے دوران میں)
فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا۔
جو وہ کرتا تھا۔ (اس عمل کا ثواب مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا۔)
اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا۔
اور وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، حدیث: 163)
فوائد و مسائل:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن جریج ہے۔
اس سے غلطی ہوئی ہے یا ابراہیم بن محمد بن ابو عطاء نے غلطی کی ہے۔
اس لئے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
اصل میں یہ فضیلت جہاد کے موقع پر سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کےلئے ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
ایک دن رات سرحد پرٹھرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
اور اگر وہ (محاذ پر ٹھرنے کے دوران میں)
فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا۔
جو وہ کرتا تھا۔ (اس عمل کا ثواب مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا۔)
اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا۔
اور وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، حدیث: 163)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1615 سے ماخوذ ہے۔