حدیث نمبر: 1609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لإتفاقھم علي ضعف يحيي بن عبيد اللّٰه بن عبد اللّٰه بن موهب ‘‘ متروك (ترمذي:1929), وللحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11330 ، ومصباح الزجاجة : 584 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/241 ) ( صحیح ) » ( لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ بن موھب ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی : رقم : 597 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب۔`
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1609]
اردو حاشہ:
فائدہ: قیامت کے دن شفاعت وہی کرسکے گا۔
جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا۔
اور اسی کے حق میں شفاعت کرے گا۔
جس کے حق میں شفاعت کرنے کی اسے اجازت ملے گی۔
جو بچہ اپنی ماں کو کھینچ کرجنت میں لے جائے گا یہ اللہ کے فضل سے اور اس کی اجازت سے ہوگا۔
یعنی ایسے بچے کی وفات پرصبر کرنے والی عورت جنت میں جائے گی۔
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1609 سے ماخوذ ہے۔