حدیث نمبر: 1608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق أَبُو بكر البكائي ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ ، فَيُقَالُ : أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ۱؎ ، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا ، تو کہا جائے گا : رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے ! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر ، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا ۱؎ “ ۔ ابوعلی کہتے ہیں : «يُراغم ربه» کے معنی ( «یغاضب» ) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: جھگڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے با اصرار سفارش کرے گا، اور اپنے والدین کو بخشوانے کی جی جان سے کوشش کرے گا یہاں تک کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مندل: ضعيف, وأسماء:لا يعرف حالھا (تقريب: 8529), والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10132 ، ومصباح الزجاجة : 583 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں )