سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ أُصِيبَ بِسِقْطٍ باب: حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1607
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں ، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: عربی میں «سقط» اس ادھورے اور ناقص بچے کو کہتے ہیں جو مدت حمل تمام ہونے سے پہلے پیدا ہو اور اس کے اعضاء پورے نہ بنے ہوں، اکثر ایسا بچہ پیدا ہوکر اسی وقت یا دو تین دن کے بعد مر جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1607]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1607]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
آگے بھیجنے سے مراد بچے کا فوت ہونا ہے۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والا بچہ زندہ نہیں رہتا یا فوت شدہ پیدا ہوتا ہے۔
اس پر صبر کا بھی ثواب ہے۔
جیسے دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
سوار پیچھے چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ انسان فوت ہو تو اس کا جواں بیٹا موجود ہو جو گھوڑے پر سوار ہوکر جہاد میں شریک ہوسکے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم صحیح الخلقت بچے کی وفات کا اجر صحیح احادیث سےثابت ہے۔
کوئی بعید نہیں صبر واحتساب کرنے پر بھی اللہ تعالیٰ تام الخلقت والا اجر عطا فرمادے۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
فوائد و مسائل:
آگے بھیجنے سے مراد بچے کا فوت ہونا ہے۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والا بچہ زندہ نہیں رہتا یا فوت شدہ پیدا ہوتا ہے۔
اس پر صبر کا بھی ثواب ہے۔
جیسے دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
سوار پیچھے چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ انسان فوت ہو تو اس کا جواں بیٹا موجود ہو جو گھوڑے پر سوار ہوکر جہاد میں شریک ہوسکے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم صحیح الخلقت بچے کی وفات کا اجر صحیح احادیث سےثابت ہے۔
کوئی بعید نہیں صبر واحتساب کرنے پر بھی اللہ تعالیٰ تام الخلقت والا اجر عطا فرمادے۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1607 سے ماخوذ ہے۔