مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے آدمی ! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو ، اور ثواب کی نیت رکھو ، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس میں صبرکی فضیلت اور اللہ کے ہاں اس نیکی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
کہ اگر احکام شریعت کے مطابق صبر کیا جائے۔
تو یہی نیکی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1597 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔