حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں «إنا لله وإنا إليه راجعون» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراهيم بن مسلم الهجري: لين الحديث, وھو ضعيف الحديث علي الراجح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5153 ، ومصباح الزجاجة : 1575 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں )