سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1587
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي جِنَازَةٍ ، فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے ، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے ، جان مصیبت میں ہے ، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے ابھی صدمہ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں دل پر اثر بہت ہوتا ہے اور رونا بہت آتا ہے، آدمی مجبور ہو جاتا ہے خصوصاً عورتیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت آواز کے ساتھ روئی ہو گی، لیکن بلند آواز سے نہیں، تب بھی عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا تاکہ نوحہ کا دروازہ بند کیا جا سکے جو منع ہے اور نبی کریم ﷺ خود اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر روئے اور فرمایا: ’’ آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل رنج کرتا ہے، لیکن زبان سے ہم وہ نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو ‘‘ اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحب زادی زینب وفات پا گئیں تو عورتیں رونے لگیں، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو کوڑے سے مارنے لگے، نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کو پیچھے ہٹا دیا، اور فرمایا: ’’ عمر ٹھہر جاؤ! ‘‘ پھر فرمایا: ’’ عورتو! تم شیطان کی آواز سے بچو … ‘‘ اخیر حدیث تک۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1860 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
1860۔ اردو حاشیہ: فائدہ: مذکو ر کو رہ روایت سند ا ضعیف ہے لیکن حدیث میں مذکور مسئلہ دیگر صحیح شواہد کی بنا پر صحیح ہے کہ صدمے کی وجہ سے فطری طور پر جو رونا ا ٓجاتا ہے، وہ جائز ہے، وہ ممنو ع ررونے کی قسم میں نہیں ا ٓتا۔ علامہ اتیو بی نے مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے اس کے شواہد کا تذ رہ کیا ہے اور بہت ہی نفیس بحث کی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (ذخيرة العقبيٰ شرح سنن النسائی: 18/314۔ 320]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1860 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1054 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1054- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کے رونے کی آواز سنی تو اسے منع کیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ابوحفص! اسے چھوڑدو، کیونکہ مصیبت لاحق ہونے کا زمانہ قریب ہے، آنکھ رورہی ہے اور جان کو تکلیف لاحق ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1054]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت پر صرف رونا گناہ نہیں ہے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عورتوں کے دل نرم ہوتے ہیں، اور اگر وہ صرف رو رہی ہوں اور واویلا نہ کریں تو ان کو روکنا نہیں چاہیے، ہاں اگر وہ چیخ و پکار اور حرام امور کا ارتکاب کریں تو ان کو روک دینا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت پر صرف رونا گناہ نہیں ہے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عورتوں کے دل نرم ہوتے ہیں، اور اگر وہ صرف رو رہی ہوں اور واویلا نہ کریں تو ان کو روکنا نہیں چاہیے، ہاں اگر وہ چیخ و پکار اور حرام امور کا ارتکاب کریں تو ان کو روک دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1053 سے ماخوذ ہے۔