مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا ، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا ، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے ، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1585]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بربادی اور ہلاکت پکارنے کا مطلب ایسے جملے بولنا ہے جیسے میں تباہ ہوگئی میں برباد ہوگئی وغیرہ۔

(2)
یہ حکم صرف عورتوں کےلئے نہیں بلکہ مردوں کےلئے بھی اس قسم کی حرکات کرنا منع ہے۔

(3)
لعنت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔
جو توبہ کئے بغیر معاف نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1585 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔