سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابٌ في النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ باب: نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔
حدیث نمبر: 1582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدِرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے ، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے ، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی ، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1582]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1582]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ حکم عورت کےلئے خاص نہیں بلکہ مرد بھی اگر اس جرم کا ارتکاب کرے گا۔
تو قیامت کے دن اسے بھی یہی سزا ملے گی۔
حدیث میں عورت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے۔
کہ عرب میں عورتیں ہی نوحہ کرتی تھیں۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
’’جوشخص رخساروں پرتھپڑ مارے گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی طرح پکارے (نوحہ کرے)
وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، حدیث: 1297 وسنن ابن ماجة، حدیث: 1584)
اس میں مرد بھی شامل ہیں۔
فائدہ: یہ حکم عورت کےلئے خاص نہیں بلکہ مرد بھی اگر اس جرم کا ارتکاب کرے گا۔
تو قیامت کے دن اسے بھی یہی سزا ملے گی۔
حدیث میں عورت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے۔
کہ عرب میں عورتیں ہی نوحہ کرتی تھیں۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
’’جوشخص رخساروں پرتھپڑ مارے گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی طرح پکارے (نوحہ کرے)
وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، حدیث: 1297 وسنن ابن ماجة، حدیث: 1584)
اس میں مرد بھی شامل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1582 سے ماخوذ ہے۔