سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابٌ في النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ باب: نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ ، قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے ، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے ، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔`
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جاہلیت سے مراد نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جب کسی کام کو جاہلیت کا کام قراردیا جائے۔
تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کام مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا۔
اسے کافر ہی کرتے ہیں اور یہ انھی لائق ہے۔
(2)
کافروں کے رسم ورواج اختیار کرنے سے اور ا ن کی نقل کرنے سے اجتناب اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
زندگی کے ہر معاملے میں یہ اُصول مسلمانوں کے پیش نظر رہنا چاہیے۔
(3)
توبہ کرنے سے کبیرہ گناہ معاف ہی ہوجاتے ہیں۔
(4)
نوحہ کرنے والی کو یہ عذاب قیامت کے دن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا۔
جیسے آئندہ حدیث سے واضح ہے ممکن ہے جہنم میں بھی ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
جاہلیت سے مراد نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جب کسی کام کو جاہلیت کا کام قراردیا جائے۔
تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کام مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا۔
اسے کافر ہی کرتے ہیں اور یہ انھی لائق ہے۔
(2)
کافروں کے رسم ورواج اختیار کرنے سے اور ا ن کی نقل کرنے سے اجتناب اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
زندگی کے ہر معاملے میں یہ اُصول مسلمانوں کے پیش نظر رہنا چاہیے۔
(3)
توبہ کرنے سے کبیرہ گناہ معاف ہی ہوجاتے ہیں۔
(4)
نوحہ کرنے والی کو یہ عذاب قیامت کے دن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا۔
جیسے آئندہ حدیث سے واضح ہے ممکن ہے جہنم میں بھی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1581 سے ماخوذ ہے۔