مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " مَا يُجْلِسُكُنَّ ؟ " ، قُلْنَ : نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ ، قَالَ : " هَلْ تَغْسِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تَحْمِلْنَ ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي ؟ " ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ نے پوچھا : ” تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اسے اٹھاؤ گی “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔