سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ باب: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ، وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمَ الْمَوْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے ، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی ، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی ، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1572]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1572]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
غیر مسلموں کے قبرستان میں جاناجائز ہے۔
لیکن وہاں جا کر وہ دعا نہ پڑھیں۔
جو مسلمانوں کے قبرستان میں پڑھی جاتی ہے۔
کیونکہ غیر مسلم کےلئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ 2۔
غیر مسلموں کی قبروں کی زیارت سے بھی مو ت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہاں وہ زیب وزینت اور سج دھج نہ ہو جو توجہ کو اپنی طرف مبذو ل کرکے آخرت اور موت کی یاد سے غافل کردے۔
(3)
شفاعت وہی قبول ہوسکتی ہے۔
جو اللہ کی اجازت سے ہو۔
مشرکین کے حق میں شفاعت نہیں ہوسکتی۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
دیکھئے: (التوبة: 113)
قیامت کے دن بھی گناہ گار مومنوں کے حق میں شفاعت ہوگی۔
شرک اکبر کےمرتکب لوگوں کےحق میں نہیں۔
فوائدو مسائل: (1)
غیر مسلموں کے قبرستان میں جاناجائز ہے۔
لیکن وہاں جا کر وہ دعا نہ پڑھیں۔
جو مسلمانوں کے قبرستان میں پڑھی جاتی ہے۔
کیونکہ غیر مسلم کےلئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ 2۔
غیر مسلموں کی قبروں کی زیارت سے بھی مو ت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہاں وہ زیب وزینت اور سج دھج نہ ہو جو توجہ کو اپنی طرف مبذو ل کرکے آخرت اور موت کی یاد سے غافل کردے۔
(3)
شفاعت وہی قبول ہوسکتی ہے۔
جو اللہ کی اجازت سے ہو۔
مشرکین کے حق میں شفاعت نہیں ہوسکتی۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
دیکھئے: (التوبة: 113)
قیامت کے دن بھی گناہ گار مومنوں کے حق میں شفاعت ہوگی۔
شرک اکبر کےمرتکب لوگوں کےحق میں نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1572 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2036 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کافر و مشرک کی قبر کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، (تو پھر) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2036]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، (تو پھر) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2036]
اردو حاشہ: (1) امام صاحب رحمہ اللہ نے استغفار کی اجازت نہ ملنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آپ کی والدہ اسلام سے قبل فوت ہوگئی تھیں اور ایسے لوگوں کے لیے دعائے مغفرت کی ممانعت ہے۔
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بچپن کی عمر میں تھے جب آپ کی والدہ کی وفات ہوگئی تھی۔ ماں، باپ کی قبر کی زیارت کی خواہش ایک فطری امر ہے جس پر شرعاً بھی کوئی پابندی نہیں۔ قبر کی زیارت کے موقع پر رونا بھی فطری چیز ہے، خصوصاً جبکہ آپ نے عالم ہوش میں پہلی دفعہ اپنی والدہ کی قبر دیکھی تھی۔ اللہ جانے! کس قسم کے جذبات محبت و پیار آپ کےدل میں امنڈ آئے ہوں گے، ممتا کوئی معمولی چیز نہیں۔
(3) والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کے لیے ان کا مسلمان ہونا ضروری نہیں، وہ مسلمان ہوں یا کافر و مشرک ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اولاد کا فرض ہے۔
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بچپن کی عمر میں تھے جب آپ کی والدہ کی وفات ہوگئی تھی۔ ماں، باپ کی قبر کی زیارت کی خواہش ایک فطری امر ہے جس پر شرعاً بھی کوئی پابندی نہیں۔ قبر کی زیارت کے موقع پر رونا بھی فطری چیز ہے، خصوصاً جبکہ آپ نے عالم ہوش میں پہلی دفعہ اپنی والدہ کی قبر دیکھی تھی۔ اللہ جانے! کس قسم کے جذبات محبت و پیار آپ کےدل میں امنڈ آئے ہوں گے، ممتا کوئی معمولی چیز نہیں۔
(3) والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کے لیے ان کا مسلمان ہونا ضروری نہیں، وہ مسلمان ہوں یا کافر و مشرک ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اولاد کا فرض ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2036 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3234 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3234]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3234]
فوائد ومسائل:
1۔
قبروں کی زیارت سے انسان کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت یاد آتی ہے۔
اور اس سے دلوں کی سختی دور ہوتی ہے۔
2۔
کفار کی قبروں کی زیارت سے بھی عبرت ہوتی ہے۔
اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت سے ان کےلئے دعائے مغفرت کا ثواب ملتا ہے۔
اور عزیزواقارب کی قبروں کی زیارت سے دل پر خاص تاثر قائم رہتا ہے۔
1۔
قبروں کی زیارت سے انسان کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت یاد آتی ہے۔
اور اس سے دلوں کی سختی دور ہوتی ہے۔
2۔
کفار کی قبروں کی زیارت سے بھی عبرت ہوتی ہے۔
اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت سے ان کےلئے دعائے مغفرت کا ثواب ملتا ہے۔
اور عزیزواقارب کی قبروں کی زیارت سے دل پر خاص تاثر قائم رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3234 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1569 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1569]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1569]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قبروں کی زیارت سے مراد عام قبرستان میں جانا ہے۔
جہاں اپنے دوستوں اور بزرگوں کی قبریں ہوں انھیں دیکھ کر انسان کے ذہن میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے۔
کہ جس طرح یہ لوگ کبھی ہمارے ساتھ تھے لیکن آج ہم سے جدا ہوچکے ہیں۔
اسی طرح ہم بھی ایک دن یہ دنیا چھوڑ کررب کے دربار میں حاضر ہوجایئں گے پھر ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
(3)
جن قبروں پر عمارتیں تعمیر کی گئی ہوں۔
وہاں جا کر آخرت کی یاد کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
کیونکہ توجہ دنیا کی بے ثباتی کی طرف نہیں ہوتی۔
بلکہ عمارت کے نقش ونگار اور عمارت کی خوبصورتی او ر اس کی تعمیر کا انداز انسان کی توجہ کو مشغول کرلیتے ہیں۔
جس کی وجہ سے قبروں کی زیارت کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
(3)
قبروں کی زیارت کاطریقہ یہ ہے کہ وہاں جا کر مدفون مسلمانوں کےلئے دعائے خیر کی جائے جیسے کہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوا- دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1547، 1546)
فوائد و مسائل:
(1)
قبروں کی زیارت سے مراد عام قبرستان میں جانا ہے۔
جہاں اپنے دوستوں اور بزرگوں کی قبریں ہوں انھیں دیکھ کر انسان کے ذہن میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے۔
کہ جس طرح یہ لوگ کبھی ہمارے ساتھ تھے لیکن آج ہم سے جدا ہوچکے ہیں۔
اسی طرح ہم بھی ایک دن یہ دنیا چھوڑ کررب کے دربار میں حاضر ہوجایئں گے پھر ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
(3)
جن قبروں پر عمارتیں تعمیر کی گئی ہوں۔
وہاں جا کر آخرت کی یاد کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
کیونکہ توجہ دنیا کی بے ثباتی کی طرف نہیں ہوتی۔
بلکہ عمارت کے نقش ونگار اور عمارت کی خوبصورتی او ر اس کی تعمیر کا انداز انسان کی توجہ کو مشغول کرلیتے ہیں۔
جس کی وجہ سے قبروں کی زیارت کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
(3)
قبروں کی زیارت کاطریقہ یہ ہے کہ وہاں جا کر مدفون مسلمانوں کےلئے دعائے خیر کی جائے جیسے کہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوا- دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1547، 1546)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1569 سے ماخوذ ہے۔