سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1571
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا ، تو اب ان کی زیارت کرو ، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے ، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے نبی اکرم ﷺ نے شرک کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو قبروں کی زیارت سے منع فرما دیا تھا، جب ایمان خوب دلوں میں جم گیا اور شرک کا خوف نہ رہا، تو آپ نے اس کی اجازت دے دی، ترمذی کی روایت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت اللہ تعالی نے دے دی اب یہ حکم عام ہے، عورت اور مرد دونوں کے لئے، یا صرف مردوں کے لئے خاص ہے، نیز صحیح یہ ہے کہ عورتیں بھی قبروں کی زیارت کر سکتی ہیں، اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے ان کو موت اور آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کے فوائد حاصل ہوں گے، البتہ زیارت میں مبالغہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں لعنت آئی ہے، اس لئے عورتوں کو محدود انداز سے زیارت قبور کی اجازت ہے، موجودہ زمانہ میں قبروں اور مشاہد کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے جو سلوک کر رکھا ہے، اس میں قبروں کی زیارت کا اصل مقصد اور فائدہ ہی اوجھل ہو گیا ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو زیارت قبور کے شرعی آداب کو سیکھنا اور اس کا لحاظ رکھنا چاہئے، اور صحیح طور پر مسنون طریقے سے قبروں کی زیارت کرنی چاہئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1571]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1571]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ (فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا)
کے سوا باقی حدیث کے شواہد صحیح مسلم میں ہیں جیسا کہ پہلا جملہ صحیح مسلم کی حدیث میں موجود ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔
تو ان کی زیارت کیا کرو۔
اور میں نے تمھیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا۔
اب جب تک چاہو رکھ سکتے ہو۔
۔
۔
الخ‘‘ (صحیح مسلم، الأضاحي، باب بیان ماکان من النھي عن أکل لحوم الأضاحي بعد ثلاث فی أوّل الإسلام وبیان نسخه إباحته إلی متی شاء، حدیث: 1976)
زیارت قبور کی حکمت بھی دوسری صحیح حدیث میں وارد ہے۔
جیسے حدیث 1572 میں آ رہا ہے۔
’’قبروں کی زیارت کرو یہ تمھیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘
یہ جملہ بھی صحیح مسلم کی ایک حدیث میں وار د ہے۔
دیکھئے: (صحیح المسلم، الجنائز، باب الستئذان النبی ﷺ ربه عزوجل فی زیارۃ قبر امه، حدیث: 976)
لہٰذا مذکورہ روایت (فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا)
جملے کے سو ا شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
(2)
جس طرح قرآن مجید کی بعض آیات سے پہلے سے نازل شدہ بعض آیات میں مذکور حکم منسوخ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث سے بھی سابقہ حدیث مسنوخ ہوسکتی ہے۔
جیسے کہ اس روایت میں صراحت موجود ہے۔
(3)
دنیا میں جائز طریقے سے رزق کمانا اور فخر وتکبر کے بغیر فضول خرچی نہ کرتے ہوئے اپنی ذات پر اور اہل خانہ پر خرچ کرنا جائز ہے۔
لیکن دولت کی ہوس اور عیش وآرام میں انہماک انسان کو آخرت سے غافل کردیتا ہے۔
دل کی اس کیفیت کا علاج کرنے کے لئے قبرستان میں جاناچاہییے۔
تاکہ اپنی موت یادآئے۔
اور اگلے جہاں کے لئے تیاری کرنے کی رغبت پیدا ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ (فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا)
کے سوا باقی حدیث کے شواہد صحیح مسلم میں ہیں جیسا کہ پہلا جملہ صحیح مسلم کی حدیث میں موجود ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔
تو ان کی زیارت کیا کرو۔
اور میں نے تمھیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا۔
اب جب تک چاہو رکھ سکتے ہو۔
۔
۔
الخ‘‘ (صحیح مسلم، الأضاحي، باب بیان ماکان من النھي عن أکل لحوم الأضاحي بعد ثلاث فی أوّل الإسلام وبیان نسخه إباحته إلی متی شاء، حدیث: 1976)
زیارت قبور کی حکمت بھی دوسری صحیح حدیث میں وارد ہے۔
جیسے حدیث 1572 میں آ رہا ہے۔
’’قبروں کی زیارت کرو یہ تمھیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘
یہ جملہ بھی صحیح مسلم کی ایک حدیث میں وار د ہے۔
دیکھئے: (صحیح المسلم، الجنائز، باب الستئذان النبی ﷺ ربه عزوجل فی زیارۃ قبر امه، حدیث: 976)
لہٰذا مذکورہ روایت (فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا)
جملے کے سو ا شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
(2)
جس طرح قرآن مجید کی بعض آیات سے پہلے سے نازل شدہ بعض آیات میں مذکور حکم منسوخ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث سے بھی سابقہ حدیث مسنوخ ہوسکتی ہے۔
جیسے کہ اس روایت میں صراحت موجود ہے۔
(3)
دنیا میں جائز طریقے سے رزق کمانا اور فخر وتکبر کے بغیر فضول خرچی نہ کرتے ہوئے اپنی ذات پر اور اہل خانہ پر خرچ کرنا جائز ہے۔
لیکن دولت کی ہوس اور عیش وآرام میں انہماک انسان کو آخرت سے غافل کردیتا ہے۔
دل کی اس کیفیت کا علاج کرنے کے لئے قبرستان میں جاناچاہییے۔
تاکہ اپنی موت یادآئے۔
اور اگلے جہاں کے لئے تیاری کرنے کی رغبت پیدا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1571 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 472 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´قبروں کی زیارت جائز ہے`
”سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب ان کی زیارت کرو۔ “ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 472]
”سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب ان کی زیارت کرو۔ “ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 472]
لغوی تشریح:
«فَزُورُوهَا» «زيارة» سے امر کا صیغہ ہے۔ یہ اجازت ممانعت کے بعد تھی۔
«تُذَكَّرُ» «تذكير» سے ماخوذ ہے، یعنی یاد دہانی کراتی ہے۔
«تُزْهَّدُ» «تزهيد» سے ماخوذ ہے، یعنی دنیا سے بےرغبت و زاہد بنا دیتی ہے۔ زیارت قبور سے بس یہی مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت جائز ہے۔
➋ ابتداء میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا مگر پھر اس کی اجازت دے دی اور اس سے مقصد آخرت کی یاد اور میت کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرنا ہے۔
➌ قبروں پر نذر و نیاز اور عرس وغیرہ کا شریعت مطہرہ میں کوئی جواز نہیں۔
«فَزُورُوهَا» «زيارة» سے امر کا صیغہ ہے۔ یہ اجازت ممانعت کے بعد تھی۔
«تُذَكَّرُ» «تذكير» سے ماخوذ ہے، یعنی یاد دہانی کراتی ہے۔
«تُزْهَّدُ» «تزهيد» سے ماخوذ ہے، یعنی دنیا سے بےرغبت و زاہد بنا دیتی ہے۔ زیارت قبور سے بس یہی مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت جائز ہے۔
➋ ابتداء میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا مگر پھر اس کی اجازت دے دی اور اس سے مقصد آخرت کی یاد اور میت کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرنا ہے۔
➌ قبروں پر نذر و نیاز اور عرس وغیرہ کا شریعت مطہرہ میں کوئی جواز نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 472 سے ماخوذ ہے۔