سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي خَلْعِ النَّعْلَيْنِ فِي الْمَقَابِرِ باب: قبرستان میں جوتا اتار کر چلنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ ، مَا تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ قَدْ آتَانِيهِ اللَّهُ ، فَمَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرٌ " ، ثُمَّ مَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا " ، قَالَ : فَالْتَفَتَ فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا " ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : حَدِيثٌ جَيِّدٌ ، وَرَجُلٌ ثِقَةٌ .
´بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا :` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا : ” اے ابن خصاصیہ ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے ( حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے “ ؟ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسول ! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں ۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے ۔ ( اسی اثناء میں ) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” انہیں بہت بھلائی مل گئی “ ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے “ ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے جوتوں والے ! انہیں اتار دے “ ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں ، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: ” اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے (حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے “؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ (اسی اثناء میں) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ” انہیں بہت بھلائی مل گئی۔“ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ” یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے۔“ اچانک آپ کی نگاہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1568]
فوائدو مسائل: (1)
قبرستان میں جوتے پہن کر چلنے کو علامہ نواب وحید الزمان خاں نے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے۔
کیونکہ دوسری حدیث میں قبر میں ہونے والے سوالات کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
’’بندے کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے۔
اور اس کے ساتھی (دفن کرنے والے افراد)
واپس لوٹتے ہیں۔
کہ وہ ابھی ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔
کہ اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں۔
۔
۔
۔
۔
، ‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال، حدیث: 1338)
(2)
مومن کےلئے موت خیر کا باعث ہے۔
کیونکہ موت کے بعد ہی اسے نیک اعمال کی جزا اور جنت کی نعمتیں ملتی ہیں۔
جب کہ کافر کے لئے موت اس کے بُرے اعمال کی سزا کی ابتداء ہے۔
(3)
اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(4)
غلطی پر تنبیہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ غلطی کرنے والے کو براہ راست اس کی غلطی سے آگاہ کردیا جائے اور اسے غلطی کے ازالے کا حکم دیا جائے۔
یہ اس صورت میں زیادہ مؤثر ہے۔
جب منع کرنے والا غلطی کرنے والے کی نگاہ میں قدرومنزلت کا حامل ہو۔
اس صورت میں اس کا احترام اور اس کی عظمت کا احساس نصیحت قبول کرنے کی ایک اہم وجہ بن جاتا ہے۔
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ” یہ لوگ بڑے شر و فساد سے (بچ) کر آگے نکل گئے “، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ” یہ لوگ بڑے خیر سے (محروم) ہو کر آگے نکل گئے “، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے سبت [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2050]