حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ ، فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی ، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1565
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن, و جاء تصريح سماعه في رواية موضوعة و للحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15402 ، ومصباح الزجاجة : 560 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1077

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قبر پر مٹی ڈالنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1565]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنازہ پڑھنے والا اگر دفن تک رکے تو اسے چاہیے کہ قبر پرکم از کم تین لپیں مٹی ڈالے۔

(2)
لپ سے مراد دونوں ہاتھ ملا کر مٹی ڈالنا ہے۔
جسے پنجابی میں بک کہتے ہیں۔
ایک ہاتھ بھر کر کوئی چیز لینے کو اردو میں چلو کہتے ہیں حدیث میں یہ مراد نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1565 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1077 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز جنازہ میں رفع یدین کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے میں اللہ اکبر کہا تو پہلی تکبیر پر آپ نے رفع یدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1077]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان لوگوں کا استدلال عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جس میں ہے کہ نبی اکرمﷺ جب صلاۃِ جنازہ پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھ ہرتکبیرمیں اٹھاتے اس کی تخریج دارقطنی نے اپنی علل میں «عن عمربن شبه حدثنا یزیدبن هارون انبأنا یحییٰ بن سعیدعن نافع عن ابن عمروقال هکذا ...رفعه عمربن شبة»  کے طریق سے کی ہے لیکن ایک جماعت نے ان کی مخالفت کی ہے اوریزیدبن ہارون سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے اوریہی صحیح ہے اس باب میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔

2؎:
ان لوگوں کا استدلال باب کی اس حدیث سے ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیساکہ تخریج سے ظاہرہے نیز ان کی دوسری دلیل ابن عباس کی روایت ہے اس کی تخریج دارقطنی نے کی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺجنازہ میں اپنے دونوں ہاتھ پہلی تکبیرمیں اٹھاتے تھے پھرایسانہیں کرتے تھے لیکن اس میں ایک راوی فضل بن سکن ہے جسے علماء نے ضعیف کہا ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابوفردہ یزید بن سناز ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے،) (دیکھئے احکام الجنائز: 115، 116)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1077 سے ماخوذ ہے۔