حدیث نمبر: 1564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: قبروں پر قبہ اور گنبد کی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے یہ بلاوجہ کا اسراف ہے جس سے مردوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4277 ، ومصباح الزجاجة : 559 ) ( صحیح ) ( تر اجع الألبانی : رقم : 196 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1564]
اردو حاشہ:
فائده:
قبر پر تعمیر کرنا مطلقاً منع ہے۔
جتنی زیادہ تعمیر ہوگی۔
اسی قدر اس ارشاد مبارک کی خلاف ورزی ہوگی اور اسی لحاظ سے تعمیر کرنے والوں کو گناہ بھی زیادہ ہوگا۔
اگر فوت ہونے والازندگی میں اس عمل کو پسند کرتا تھا۔
اور وہ خواہش رکھتا تھا کہ اس کی قبر پختہ بنائی جائے۔
یا اس پر عمارت بنائی جائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1564 سے ماخوذ ہے۔