حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْقَبْرِ شَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے جو لوگ قبر پر لگاتے ہیں، جس میں میت کی تاریخ وفات اور اوصاف و فضائل درج کئے جاتے ہیں، بعض علماء نے کہا ہے کہ ممانعت سے مراد اللہ یا رسول اللہ کا نام لکھنا ہے، یا قرآن مجید کی آیتیں لکھنا ہے کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ پیشاب وغیرہ کر دیتا ہے جس سے ان چیزوں کی توہین ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن النسائی/الجنائز 96 ( 2029 ) ، ( تحفة الأشراف : 2274 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز 76 ( 3226 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 58 ( 1052 ) ( صحیح ) ( تراجع الألبانی : رقم : 196 ، 586 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1563]
اردو حاشہ:
فائده:
اس سے معلوم ہوا کہ فوت ہونے والے کا نام اور تاریخ وفات بھی نہیں لکھنی چاہیے۔
نشانی کے لئے کوئی پتھر وغیرہ رکھ دینا کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1563 سے ماخوذ ہے۔