حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مُرَاءٍ ، قَالَ : فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ ، فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ ، إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ، قَالَ : وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ ، فَقَالَ : " أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ " ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک رات آیا ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا ، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے ، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا ، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ نرمی کرو “ ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے ، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی قبر کشادہ کرو ، اللہ اس پر کشادگی کرے “ ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, موسي بن عبيدة: ضعيف (الإصابة 26/1 ت 63), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 81 ، ومصباح الزجاجة : 557 ) ( ضعیف ) » ( موسیٰ بن عبیدة ضعیف راوی ہیں )