سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ باب: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّحْدُ لَنَا ، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے ، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔`
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1555]
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1555]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت معناً صحیح ہے۔
بلکہ بعض حضرات کے نزدیک سنداً بھی صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے گزشتہ حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
فائدہ: یہ روایت معناً صحیح ہے۔
بلکہ بعض حضرات کے نزدیک سنداً بھی صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے گزشتہ حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1555 سے ماخوذ ہے۔