حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا ، وَاسْتل استِلالًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا ، اور کھینچ لیا گیا ، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطية: ضعيف مدلس, والمحاربي عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4218 ، ومصباح الزجاجة : 552 ) ( منکر ) » ( اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : احکام الجنائز : 150 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم میت کو قبر میں داخل کر نے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو گزشتہ حدیث کے فوائد میں مذکور ہے۔
باقی رہا میت کا چہرہ اور جسم قبلہ کی طرف کرنا تو اس کی بابت علمائے کرام یہی لکھتے ہیں۔
کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ہے۔
البتہ چہرہ قبلے کی طرف کردیا جائے تو بہتر ہے۔
امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیں: (المحلی لابن حزم: 173/5 وأحکام الجنائز، ص: 192)

(2)
حدیث کے الفاظ (والستل استلالا)
 کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں۔
ان الفاظ کی کوئی اصل نہیں ہے۔
کیونکہ امام مزی نے تحفۃ الاشراف اور امام بوصیری نے مصباح الزجاجہ میں ان کو ذکر نہیں کیا بلکہ ان الفاظ کی بجائے: (وَاسْتُقْبِلَ اِسْتِقْبَالًا)
کا ذکر کیا ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، للدکتور بشار عواد، حدیث: 1552)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1552 سے ماخوذ ہے۔