سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي " ، قَالُوا : كَانَ اللَّيْلُ ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا ، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے ( اس کی موت کے بارے میں ) آپ کو بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی “ ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی ، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے ، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1247 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1247. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ ﷺ ایک شخص کی عیادت کیا کرتے تھے۔ وہ رات کے وقت فوت گیا تو لوگوں نے اسے رات ہی کو دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو انھوں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’مجھے(رات کے وقت ہی) خبر دینے سے تمھیں کس چیز نے باز رکھا؟‘‘ انھوں نے عرض کی: رات کا وقت تھا اور سخت اندھیرا تھا، اس لیے ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور نماز جنازہ پڑھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1247]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرنے والوں کے نماز جنازہ کے لیے سب کو اطلاع ہونی چاہیے اور اب بھی ایسے مواقع میں جنازہ قبر پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1247 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1247 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1247. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ ﷺ ایک شخص کی عیادت کیا کرتے تھے۔ وہ رات کے وقت فوت گیا تو لوگوں نے اسے رات ہی کو دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو انھوں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’مجھے(رات کے وقت ہی) خبر دینے سے تمھیں کس چیز نے باز رکھا؟‘‘ انھوں نے عرض کی: رات کا وقت تھا اور سخت اندھیرا تھا، اس لیے ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور نماز جنازہ پڑھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1247]
حدیث حاشیہ:
اس سے پہلے عنوان میں امام بخاری ؒ نے دوسرے کو موت کی اطلاع دینا بیان کیا تھا اور اس عنوان میں جنازہ تیار ہونے کی خبر دینا بیان کیا گیا ہے، خصوصا ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو بڑی شخصیت کے حامل اور مقتدا و پیشوا ہوں۔
بعض شارحین نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں جس شخص کا ذکر ہے، اس سے وہی شخص مراد ہے جس کا ذکر حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث میں ہوا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ سے مروی حدیث میں ام محجن ؓ نامی عورت کا ذکر ہے جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، جبکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ جس شخص کی بابت خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر آ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی تھی وہ شخص عورت نہیں بلکہ مرد تھا، لہذا یہ دونوں کسی بھی صورت میں ایک شخص نہیں ہو سکتا۔
یہ دونوں الگ الگ واقعے میں ایک میں عورت کی قبر پر آ کر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے اور دوسرے میں کسی مرد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 78/9، و فتح الباري: 152/3)
والله أعلم۔
اس سے پہلے عنوان میں امام بخاری ؒ نے دوسرے کو موت کی اطلاع دینا بیان کیا تھا اور اس عنوان میں جنازہ تیار ہونے کی خبر دینا بیان کیا گیا ہے، خصوصا ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو بڑی شخصیت کے حامل اور مقتدا و پیشوا ہوں۔
بعض شارحین نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں جس شخص کا ذکر ہے، اس سے وہی شخص مراد ہے جس کا ذکر حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث میں ہوا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ سے مروی حدیث میں ام محجن ؓ نامی عورت کا ذکر ہے جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، جبکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ جس شخص کی بابت خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر آ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی تھی وہ شخص عورت نہیں بلکہ مرد تھا، لہذا یہ دونوں کسی بھی صورت میں ایک شخص نہیں ہو سکتا۔
یہ دونوں الگ الگ واقعے میں ایک میں عورت کی قبر پر آ کر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے اور دوسرے میں کسی مرد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 78/9، و فتح الباري: 152/3)
والله أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1247 سے ماخوذ ہے۔