سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا ؟ " ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی ، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی “ ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : اس پہ صف باندھو ، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی ۔