مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1522
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن لهيعة و أبو الزبير: عنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1522]
اردو حاشہ:
فائدہ: حدیث (1519)
میں جو مکروہ اوقات ذکر ہوئے ہیں۔
ان کے علاوہ کسی بھی وقت نما ز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔
لیکن رات کو جنازہ پڑھنے میں حاضری کم ہوگی۔
بہت سے مسلمانوں کو اطلاع نہیں ہوسکے گی۔
یا اطلاع کے باوجود ان کو حاضر ہونے میں مشقت ہوگی۔
اس لئے بہتر ہے کہ ایسے وقت جنازہ پڑھا جائے۔
جب زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوسکیں۔
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ مکروہ اوقات کے علاوہ ہروقت نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1522 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔